𝐈𝐥𝐡𝐚𝐦_𝐞_𝐈𝐬𝐡𝐚𝐪 𝐮𝐫𝐝𝐮 𝐧𝐨𝐯𝐞𝐥 𝐞𝐩:1
𝐈𝐥𝐡𝐚𝐦 𝐞 𝐢𝐬𝐡𝐚𝐪 𝐮𝐫𝐝𝐮 𝐧𝐨𝐯𝐞𝐥
سبز درخت اس وقت اندھیرے میں ڈوبے چاند کی روشنی
میں اپنی موجودگی کا ثبوت دے رہے تھے۔ قدموں کے نشان سڑک پر پڑے پتھروں کو پیچھے چھوڑتے جارہے تھے۔ رات کے پچھلے پہر وہ سنسان سڑک پر تیز رفتار سے بھاگ رہا تھا۔ اس کی سانسوں کا تسلسل ساتھ چھوڑ چکا تھا۔ دل کی دھڑکن بڑھی ہوئی تھی۔ رات کے خاموشی میں بس اس کی سانسیں ذرا سا ارتعاش پیدا کر رہی تھیں۔ پینے سے شرابور اب وہ خود اذیتی کی انتہا پر تھا۔ پیاس سے اس کے لب خشک ہو رہے تھے۔ پیشانی پر بکھرے بال پانی کی بوندوں کو سڑک پر گرنے کا راستہ دے رہے تھے۔ پچھلے ایک گھنٹے سے وہ اسی سڑک پر تھا اور اپنی سپیڈ کو تیز سے تیز کرتا جا رہا تھا۔ پائوں میں پہنے جا گرز کے تسمے سڑک کو چھوتے ہوئے اس کے ہم قدم ہو رہے تھے۔ سفید ٹی شرٹ اور برائون ٹر وائوزر پہنے وہ دنیا سے بے نیاز ہو کر خود کو تکلیف دے رہا تھا۔ دو دھیار نگت اس وقت چاند کی مدھم روشنی میں چمک رہی تھی۔ بھوری آنکھوں میں اس وقت صرف وحشت تھی۔ کسی ذی روح کا تصور بھی
اس وقت وہ بالکل نہیں کر رہا تھا جب اچانک اس کے سامنے ایک ٹرک آ گیا اس سے پہلے وہ ٹرک سے ٹکراتا اپنے پیچھے سے کسی نسوانی آواز پر اس کے بڑھتے قدم زنجیر میں قید
ہوئے۔
"بادی"
وہ پلٹ کر دیکھنے ہی والا تھا جب وہ ٹرک اسے کچلتا ہوا آگے بڑھ گیا۔
"بادی"
ایک چیخ نما آواز نے بیڈ پر سوئے ہوئے دوسرے وجود کو جھنجھوڑ کر اٹھایا تھا۔ خاموشی کو توڑتی اس کی آواز نے مقابل کو اس کے خوف کا پتہ صاف دے دیا تھا۔ حازم شاہ نے جلدی سے کمرے میں موجود لیمپ کو آن کر کے کمرے کو روشن کیا تھا۔ اور عشال شاہ کو دیکھا تھا جواب گہرے سانس لیتے ہوئے خود کو نارمل کرنے کی ادنی سی کوشش کر رہی تھیں۔
حازم شاہ نے آگے بڑھ کر انہیں اپنے حصار میں لیا تھا۔ حازم شاہ جانتے تھے یقینا آج بھی عشال نے ہادی کے حوالے سے کوئی برا خواب دیکھا ہو گا۔ کیونکہ یہ خوف اسے راتوں کو نیند سے بری طرح جھنجھوڑ کر بیدار کرواتا تھا۔
"عشال۔۔۔ عشال۔۔ سب ٹھیک ہے ۔ "
حازم شاہ نے عشال کے بال سہلاتے ہوئے انہیں پر سکون کرنے کی کوشش کی۔ عشال شاہ کا جسم اب بھی لرز رہا تھا۔ اسی لرزش میں اب وہ رونے میں مصروف ہو چکی تھیں۔ اور یہ لمحہ حازم شاہ کے لئے دنیا کا تکلیف دہ لمحہ ہوتا تھا جب ان کی ہمراز ان کی محبت کی آنکھوں میں آنسو ہوتے تھے۔
وہ۔۔ وہ۔۔۔ مجھے چھوڑ کر تو نہیں جائے گا نہ شاہ؟"

Comments
Post a Comment