Posts

Showing posts with the label 𝐑𝐨𝐨𝐡_𝐞_𝐘𝐚𝐫𝐚𝐦

𝐑𝐨𝐨𝐡_𝐞_𝐚𝐲𝐚𝐫𝐚𝐦 𝐞𝐩:7 𝐅𝐮𝐥𝐥 𝐢𝐧 𝐔𝐫𝐝𝐮

Image
  شارف کے خلاف بھی ایسا کوئی جھوٹا ثبوت رہے اور پھر وہی ہوا دس منٹ کے اندر ان لڑکیوں کی ہر ویڈیو سائٹ سے ہر قسم کی دوسری فحاش جگہ سے دور کر دی گئی۔ وہ لڑکیوں جو شادی کے بعد اپنے خاوند کے ساتھ ہنی مون کے لیے یہاں آئی تھی۔ واثق ملک نے ہوٹل کے رومز میں کیمرہ لگا کر ان کی ویڈیوز بنائیں جینے بعد میں سائیڈ پر ریلیز کر کے بہت پیسہ کمانے کا ارادہ تھا۔ وہ کپلز شاید یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ان کے ساتھ کیا ہونے جارہا تھا۔ لیکن ڈیول جانتا تھا وہ جانتا تھا کہ ان کی زندگی کس طرح سے برباد ہو سکتی ہے۔ ڈیول میں نے ہر قسم کا پرنٹ ریموو کر وادیا ہے لیکن وہ رکا لیکن کیا۔۔۔۔؟ وہ غصے سے چلایا ان ویڈیوز کا ایک پرینٹ پاکستان پہنچادیا گیا ہے۔ اس کی بات سن کر ڈیول نے ایک نگاہ اپنے دائیں طرف کھرے خضر پر ڈالی جو کہتا تھا کہ اس کا ملک بہت پاک صاف ہے بہت نیک ہے۔ اس کے ملک میں کوئی فحاش کام نہیں ہوتا لیکن اب پاکستان بھی دنیا کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا خضر اس سے نگاہ نہیں ملا پار ہا تھا

Rooh_e_Yaram ep:6 Full in Urdu

Image
 ہیں میں یہاں شارف کے لئے نہیں بلکہ ان لڑکیوں کے لئے آیا ہوں۔ اس ویڈیو کا اور جنل پرنٹ میرے سامنے ریمو کرو اور باقی کی خود کر واڈا بھی تمہارے پاس صرف 10 منٹ ہے۔ اس نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا لیکن اب میں کچھ نہیں کر سکتا وہ ویڈیو تو سائٹ پر ریلیز ہو چکی ہے۔ اب تو کرڑوں لوگ دیکھ چکے ہوں گے کیا یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے ڈان نے اس کے سر پر بندوق تانتے ہوئے اس کی بات کائی۔ نہ نہیں رکو میں کچھ کرواتا ہوں مجھے مت مار ناوہ پھر سے التجا کرنے لگا دس منٹ ڈان کا لہجہ سفاک تھا۔ اور پھر سامنے کھڑا شخص اسے اپنے کرتب دکھانے لگا اپنی جان بچانے کے لئے یہ شخص کچھ بھی کرنے کو تیار تھا وہ کپکپاتے ہاتھوں سے کبھی ایک طرف فون کرتا تو کبھی دوسری طرف۔ جبکہ اس کے آدمی اس کے گھر کی تلاشی لے رہے تھے۔ کیونکہ جو بھی تھا اس کے سارے آدمیوں کا ریکارڈ بہت صاف تھا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ

Rooh_e_Yaram ep:5 full in Urdu

Image
  اسے جیسے ہی اندازہ ہوا کہ اب وہ ڈان سے بچ نہیں سکتا وہ رونے لگا۔ تم۔ تمہیں ثبوت چاہیے نا اپنے آدمی کے بے گناہ ہونے کا میں تمہیں ابھی ثبوت دیتا ہوں وہ جلدی سے زمین سے اٹھنے لگا جب اس کے آدمیوں نے بندوق پر زور ڈال کر اسے واپس بٹھا دیا تمہیں کیا لگتا ہے اگر میں یہاں تک پہنچ سکتا ہوں تو کیا تم سے ثبوت نکالنا میرے لیے مشکل ہے وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھنے لگا ویسے بہت صفائی سے کام کیا ہے تم نے مجھے تمہارا کام کرنے کا انداز پسند آیا اس کے لہجے میں واثق ملک اپنا مذاق اڑتا ہوا محسوس کر رہا تھا تمہیں کیا لگتا ہے واثق میرے لیے شارف کو چھڑوانا مشکل ہے نہیں میں جب چاہوں اسے جیل سے نکلوا سکتا ہوں ایسے ایسے اس نے اپنے ہاتھ کی دو انگلیوں سے چٹکی اس کے آنکھوں کے سامنے بجاتے ہوئے کہا تم جانتے ہو میں تمہیں کیوں ڈھونڈ رہا ہوں واثق ملک میں تمہیں شارف کے لئے نہیں بلکہ ان لڑکیوں کے لیے ڈھونڈ رہا ہوں جس کی ویڈیو تمہارے پاس ہے وہ لڑکیاں جو با حفاظت ترکی میں ہیں لیکن ان کی فحاش ویڈیو آج بھی تمہارے پاس موجود

Rooh_e_Yaram ep:4 Full Novel in Urdu

Image
  واثق ملک نے ذراسی نگاہ اٹھا کر اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔ گنے کالے بال جو پیچھے کی طرف پونی میں بندے ہونے کے باوجود بھی ماتھے کو کور کیے ہوئے تھے۔ سرخ و سفید رنگت۔ سبز آنکھیں ہلکی ہلکی داڑھی ذراذراسی موچ ۔ وہ جب بات کرتا تھا اس کے گال پر ایک ڈمپل نمایاں ہوتا۔ لیکن یہ شخص ہنستا نہیں تھا۔ اس لیے آج تک جس نے بھی اس کے گال کا ڈمپل دیکھا تھا اس سے بات کرتے ہوئے ہی دیکھا تھا۔ بے شک وہ عربی شہزادہ ہنستے ہوئے بھی قیامت ڈاہتا ہو گا جب کاٹنے کی اوقات نہ ہو تو بھونکنا بھی نہیں چاہیے وہ اس کے سامنے شان بے نیازی سے صوفے پر بیٹھتا ہوا بولا اب تک واثق ملک کو ڈان کے سامنے اپنی اوقات کا اندازہ اچھے سے ہو چکا تھا۔ وہ اتنے چھوٹے سے علاقے میں آکر چھپ کے بیٹھ چکا تھا لیکن ڈان نے اسے یہاں سے بھی ڈھونڈ نکالا۔ مجھے معاف کر دو ڈیول مجھ سے غلطی ہو گئی۔ تم جیسا کہو گے میں ویسا کروں گا پلیز مجھے مت مارنا۔

𝐑𝐨𝐨𝐡_𝐞_𝐘𝐚𝐫𝐚𝐦 𝐞𝐩:3 𝐅𝐮𝐥𝐥 𝐢𝐧 𝐔𝐫𝐝𝐮

Image
  جیل کے اندر کر واد یا تھا اور یہی چیز ڈان کو غصہ دلا رہی  تھی۔ واثق ملک جو کہ فون پر اسے دھمکیاں دے چکا تھا کہ وہ شارف کو پھانسی کے پھندے تک پہنچائے گا۔ اس وقت اس سے چھپ کر ان چھوٹے چھوٹے مکانوں میں سے ے کسی ایک مکان میں تھا۔ اس نے واثق ملک کو کہا تھا کہ چھپنے سے بہتر ہے کہ وہ سامنے آکر اس سے بات کرے لیکن واثق ملک نہ مانا اسی کی وجہ سے آج شارف ایک ہفتے سے زیادہ وقت سے جیل میں تھا۔ وہ ڈان کا لایفٹ ہینڈ تھا اسے جیل میں کسی چیز کی کمی نہ تھی اے۔ سی اٹی وی 'بیڈ وہ ڈان کا خاص بندہ تھا اسے ہر چیز مہیا کی گئی تھی۔ لیکن جیل سے زیادہ ڈان کو یہاں اس کی ضرورت تھی جس کی وجہ سے اس کا باہر ہونا ضروری تھا۔ وہ تنگ گلی سے نکلتا ہوا ایک گھر کے اندر داخل ہوا جہاں اس کے کچھ آدمی ایک آدمی کو زمین پر بیٹھائے اس کے سر پر بندوقیں تانے کھڑے تھے۔ وہ بالکل خاموشی سے آکر صوفے پر بیٹھ گیا اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہ تھا۔

𝐑𝐨𝐨𝐡_𝐞_𝐘𝐚𝐫𝐚𝐦 𝐞𝐩:2 𝐅𝐮𝐥𝐥 𝐍𝐨𝐯𝐞𝐥 𝐢𝐧 𝐔𝐫𝐝𝐮

Image
    ہی روشنیوں سے بھرا ہوتا۔ اور ڈان اکثر اپنے کام روشنیوں میں کرنے کا عادی تھا کیونکہ اسے پتہ تھا۔ کہ گناہ کار کو اس کا گناہ نہیں بلکہ گناہ چھپانے کا طریقہ مار دیتا ہے اس لیے وہ جو بھی کرتا کھلے عام کرتا وہ اپنے کسی بھی کام میں کوئی غلطی نہیں کرتا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ 32 سال کی عمر میں وہ انڈر ورلڈ کار ڈان تھا۔ گناہوں کی دنیا میں قدم رکھتے ہی ڈان نے اس شہر میں ڈان نامی کہیں کیڑے مکوڑوں کو مسل ڈالا دوبئی کا بچہ بچہ ڈان داڈیول کو جانتا تھا لیکن کوئی بھی اس کی شکل سے واقف نہ تھا وہ اتنی صفائی اور ہوشیاری سے کام کرتا تھا کے ساتھ کھڑے خضر کو بھی پتا نہیں چلتا۔ شارف بے گناہ نہیں تھا اس نے بھی کہیں گناہ کیسے تھے لیکن جس چیز کا الزام ابھی اسے دیا جارہا تھا وہ اس نے نہیں کیا تھا اور ڈان کو یہ منظور نہ تھا کہ اس کی ٹیم میں کسی کو اس طرح سے ٹارگٹ کیا جائے اسے جن لوگوں سے مطلب نہ ہوتا ان سے وہ کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا نہ ہی دوستی اور نہ ہی دشمنی لیکن واثق ملک نے اسے سامنے سے لکار تھا اس کے لایفٹ ہینڈ شارف پر الزام لگا کے اسے

𝐑𝐨𝐨𝐡_𝐄_𝐘𝐚𝐫𝐚𝐦 𝐄𝐩:01 𝐅𝐮𝐥𝐥 𝐍𝐨𝐯𝐞𝐥 𝐢𝐧 𝐮𝐫𝐝𝐮

Image
  روح یارم از اریج شاہ یہ منظر دبئی کے بہت بڑے شہر راس الخیمہ کا ہے۔ اس شہر کو راس الخیمہ اس لیے بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں خیموں سے مشاہبت رکھنے والے چھوٹے چھوٹے مکان ہیں جو ساحل سمندر پر موجود ہیں۔ وہ اس طرح کے چھوٹے چھوٹے کام کرنے کے لیے خود نہیں آتا تھا لیکن اس وقت سوال اس کے لایفٹ ہینڈ شارف کا تھا وہ جو بچپن سے اس کے ساتھ تھا اس کے ہر کام میں برابر کا شریک۔ آج وہ اسے تنہا نہیں چھوڑ سکتا تھا وہ اس وقت دبئی کی ایک بہت بڑی جیل میں تھا۔ اس کا وفادار ساتھی اس پر جان نچھاور کرنے والے کو وہ اس طرح سے نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ یہ سچ تھا کہ ڈان کو اس سے کوئی محبت نہ تھی اس کے ساتھ کوئی دلی وابستگی نہ تھی مگر وہ اس کے لئے جان دینے کا حوصلہ رکھتا تھا اور ڈان کو ایسے ہی لوگوں کی ضرورت تھی۔ رات ایک بجے کا وقت تھا راس الخیمہ شہر دن میں جتنا ویران اور خاموش ہو تا رات میں اتنا