Ilham_e_ishaq full in urdu ep:3
کی ذات اور راتوں کی تنہائی میں موجود چاند کی روشنی
جانتی تھی۔ اٹھارہ سال گزر گئے تھے حازم شاہ کو اس حال میں لیکن آج بھی ان دکھ ویسے ہی تازہ تھا۔
سورج کی کرنوں کو منہ پر پڑتے دیکھ کر وہ کروٹ بدل گیا۔ اور منہ پر کمبل لیتے ہوئے وہ
خود کو چھپا گیا تھا۔
"ہنی۔۔ ہنی۔۔ اٹھ جائو ۔۔ بابا ناشتے پر انتظار کر رہے ہیں۔"
ایک نسوانی آواز پر کمبل ہٹاتے ہوئے وہ اپنے سامنے دیکھنے لگا۔ جہاں ایک چو میں سالہ لڑکی کھڑی مسکراتے ہوئے اس کے کمرے کو سمیٹنے میں مصروف ہو گئی تھی۔
" بی جے نہ تنگ کیا کر و صبح صبح ؟"
وہ پلٹ کو حمین کو دیکھنے لگی۔ دودھیار نگت ، کالی آنکھیں، لمبی خم دار پلکیں جو کالی آنکھوں کی چمک کو ہر وقت چھپانے کی کوشش کرتی تھیں، کلین شیو، کھڑی مغرور ناک، تیکھے نین نقش، پیشانی پر بکھرے بال، عنابی لبوں پر مسکراہٹ مقابل کو مسکرانے پر مجبور کرگئی
تھی۔
" آج تمہارا فرسٹ ڈے ہے یونی میں اور بابا نہیں چاہتے تم لیٹ ہو اسی لئے انہوں نے بولا
کہ اگلے دس منٹ میں تم تیار ہو کر نہیں آئے تو وہ خود تمہیں تیار کرنے آجائیں گے۔"
حازم شاہ کے نام پر اس کی بند ہوتی آنکھیں پوری کھلی تھیں۔ بے ساختہ اس نے کمرے میں لگی گھڑی کی طرف دیکھا ہے۔ جہاں سات بج کر پچیس منٹ ہوئے تھے مطلب صاف تھا پینتیس منٹ تک وہ واقعی اس کے سر پر کھڑے ہوں گے۔
" بی جے اٹس ناٹ قیر یار ۔ "
وہ منہ بسورتے ہوئے اٹھا تھا۔
"حمین مجھے آپی بولا کرو تم ۔ "
حمین واش روم کی طرف جارہا تھا جب آئرہ شاہ کی آواز پر رکا اور پلٹ کر مسکرایا تھا۔
ہاں تا کہ میرا ہٹلر باپ میرے دو مہینے کی پاکٹ منی بند کر دے۔ یاد ہے پچھلی بار صرف آپ کا نام ہی لیا تھا بس پورا مہینہ ادھار مانگ مانگ کر کھاتا رہا
تھا۔ بھا بھی جی خوف خدا کر و کچھ اب تو میں کبھی بھی آپی نہ بولوں۔"

Comments
Post a Comment