Posts

𝐑𝐨𝐨𝐡_𝐞_𝐘𝐚𝐫𝐚𝐦 𝐞𝐩:3 𝐅𝐮𝐥𝐥 𝐢𝐧 𝐔𝐫𝐝𝐮

Image
  جیل کے اندر کر واد یا تھا اور یہی چیز ڈان کو غصہ دلا رہی  تھی۔ واثق ملک جو کہ فون پر اسے دھمکیاں دے چکا تھا کہ وہ شارف کو پھانسی کے پھندے تک پہنچائے گا۔ اس وقت اس سے چھپ کر ان چھوٹے چھوٹے مکانوں میں سے ے کسی ایک مکان میں تھا۔ اس نے واثق ملک کو کہا تھا کہ چھپنے سے بہتر ہے کہ وہ سامنے آکر اس سے بات کرے لیکن واثق ملک نہ مانا اسی کی وجہ سے آج شارف ایک ہفتے سے زیادہ وقت سے جیل میں تھا۔ وہ ڈان کا لایفٹ ہینڈ تھا اسے جیل میں کسی چیز کی کمی نہ تھی اے۔ سی اٹی وی 'بیڈ وہ ڈان کا خاص بندہ تھا اسے ہر چیز مہیا کی گئی تھی۔ لیکن جیل سے زیادہ ڈان کو یہاں اس کی ضرورت تھی جس کی وجہ سے اس کا باہر ہونا ضروری تھا۔ وہ تنگ گلی سے نکلتا ہوا ایک گھر کے اندر داخل ہوا جہاں اس کے کچھ آدمی ایک آدمی کو زمین پر بیٹھائے اس کے سر پر بندوقیں تانے کھڑے تھے۔ وہ بالکل خاموشی سے آکر صوفے پر بیٹھ گیا اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہ تھا۔

𝐑𝐨𝐨𝐡_𝐞_𝐘𝐚𝐫𝐚𝐦 𝐞𝐩:2 𝐅𝐮𝐥𝐥 𝐍𝐨𝐯𝐞𝐥 𝐢𝐧 𝐔𝐫𝐝𝐮

Image
    ہی روشنیوں سے بھرا ہوتا۔ اور ڈان اکثر اپنے کام روشنیوں میں کرنے کا عادی تھا کیونکہ اسے پتہ تھا۔ کہ گناہ کار کو اس کا گناہ نہیں بلکہ گناہ چھپانے کا طریقہ مار دیتا ہے اس لیے وہ جو بھی کرتا کھلے عام کرتا وہ اپنے کسی بھی کام میں کوئی غلطی نہیں کرتا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ 32 سال کی عمر میں وہ انڈر ورلڈ کار ڈان تھا۔ گناہوں کی دنیا میں قدم رکھتے ہی ڈان نے اس شہر میں ڈان نامی کہیں کیڑے مکوڑوں کو مسل ڈالا دوبئی کا بچہ بچہ ڈان داڈیول کو جانتا تھا لیکن کوئی بھی اس کی شکل سے واقف نہ تھا وہ اتنی صفائی اور ہوشیاری سے کام کرتا تھا کے ساتھ کھڑے خضر کو بھی پتا نہیں چلتا۔ شارف بے گناہ نہیں تھا اس نے بھی کہیں گناہ کیسے تھے لیکن جس چیز کا الزام ابھی اسے دیا جارہا تھا وہ اس نے نہیں کیا تھا اور ڈان کو یہ منظور نہ تھا کہ اس کی ٹیم میں کسی کو اس طرح سے ٹارگٹ کیا جائے اسے جن لوگوں سے مطلب نہ ہوتا ان سے وہ کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا نہ ہی دوستی اور نہ ہی دشمنی لیکن واثق ملک نے اسے سامنے سے لکار تھا اس کے لایفٹ ہینڈ شارف پر الزام لگا کے اسے

𝐑𝐨𝐨𝐡_𝐄_𝐘𝐚𝐫𝐚𝐦 𝐄𝐩:01 𝐅𝐮𝐥𝐥 𝐍𝐨𝐯𝐞𝐥 𝐢𝐧 𝐮𝐫𝐝𝐮

Image
  روح یارم از اریج شاہ یہ منظر دبئی کے بہت بڑے شہر راس الخیمہ کا ہے۔ اس شہر کو راس الخیمہ اس لیے بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں خیموں سے مشاہبت رکھنے والے چھوٹے چھوٹے مکان ہیں جو ساحل سمندر پر موجود ہیں۔ وہ اس طرح کے چھوٹے چھوٹے کام کرنے کے لیے خود نہیں آتا تھا لیکن اس وقت سوال اس کے لایفٹ ہینڈ شارف کا تھا وہ جو بچپن سے اس کے ساتھ تھا اس کے ہر کام میں برابر کا شریک۔ آج وہ اسے تنہا نہیں چھوڑ سکتا تھا وہ اس وقت دبئی کی ایک بہت بڑی جیل میں تھا۔ اس کا وفادار ساتھی اس پر جان نچھاور کرنے والے کو وہ اس طرح سے نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ یہ سچ تھا کہ ڈان کو اس سے کوئی محبت نہ تھی اس کے ساتھ کوئی دلی وابستگی نہ تھی مگر وہ اس کے لئے جان دینے کا حوصلہ رکھتا تھا اور ڈان کو ایسے ہی لوگوں کی ضرورت تھی۔ رات ایک بجے کا وقت تھا راس الخیمہ شہر دن میں جتنا ویران اور خاموش ہو تا رات میں اتنا