Rooh_e_Yaram ep:4 Full Novel in Urdu
واثق ملک نے ذراسی نگاہ اٹھا کر اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔ گنے کالے بال جو پیچھے کی طرف پونی میں بندے ہونے کے باوجود بھی ماتھے کو کور کیے ہوئے تھے۔ سرخ و سفید رنگت۔ سبز آنکھیں ہلکی ہلکی داڑھی ذراذراسی موچ ۔ وہ جب بات کرتا تھا اس کے گال پر ایک ڈمپل نمایاں ہوتا۔ لیکن یہ شخص ہنستا نہیں تھا۔ اس لیے آج تک جس نے بھی اس کے گال کا ڈمپل دیکھا تھا اس سے بات کرتے ہوئے
ہی دیکھا تھا۔
بے شک وہ عربی شہزادہ ہنستے ہوئے بھی قیامت ڈاہتا ہو گا
جب کاٹنے کی اوقات نہ ہو تو بھونکنا بھی نہیں چاہیے وہ اس کے سامنے شان بے نیازی سے صوفے پر بیٹھتا ہوا بولا
اب تک واثق ملک کو ڈان کے سامنے اپنی اوقات کا اندازہ اچھے سے ہو چکا تھا۔ وہ اتنے چھوٹے سے علاقے میں آکر چھپ کے بیٹھ چکا تھا لیکن ڈان نے اسے یہاں سے
بھی ڈھونڈ نکالا۔
مجھے معاف کر دو ڈیول مجھ سے غلطی ہو گئی۔ تم جیسا کہو گے میں ویسا کروں گا پلیز مجھے مت
مارنا۔

Comments
Post a Comment