Ilham_e_ishaq urdu Novel ep:2

 



ہمیشہ سے کیا جانے والا سوال آج بھی حازم شاہ کو اس کی تکلیف کا پتہ دے گیا تھا۔ حازم شاہ بے بسی کی انتہا پر تھے۔ تسلی دیتے بھی تو کیسے جب انہیں خود معلوم تھا کہ ان کا بیٹا موت کے پیچھے بھاگنے والا کھلاڑی ہے۔ لیکن خود کو مضبوط ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے عشال کی پیشانی پر بوسہ دیا اور انہیں پر سکون کیا۔ اپنے دائیں ہاتھ سے عشال شاہ کے بھیگے سرخ گالوں کو صاف کرتے ہوئے وہ بمشکل مسکرائے تھے۔

وہ ہمارا بہادر بیٹا ہے شاہ کی جان۔ اس کے لئے تم دعا کیا کرو کہ وہ ہر امتحان اور ہر آزمائش میں کامیاب ہو۔ اور ویسے بھی آرمی میں جانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔"


آخری بات انہوں نے شرارت سے بولی تھی۔ جبکہ عشال شاہ کا سفید چہرہ ایک دم متغیر ہوا تھا۔

اس آرمی نے مجھ سے بہت کچھ چھین لیا ہے شاہ۔ اب مزید کچھ دینے کی ہمت مجھ میں


نہیں ہے۔"


عشال شاہ کی بھرائی آواز پر حازم شاہ نے سختی سے اپنے لبوں کو پیوست کر کے خود پر ضبط کیا تھا۔ عشال شاہ کا اشارہ کس بات کی طرف تھا وہ باخوبی سمجھ گئے تھے۔

/p>

" ہم اس بارے میں بات نہیں کریں گے عشال۔ اب سو جائو۔ اور ہاں آفس میں ہادی کی


کال آئی تھی پرسوں آرہا گھر کچھ دنوں کے لئے ۔ "


عشال نے شکوہ کناں نظروں سے حازم شاہ کو دیکھا تھا جو ہر بار اس موضوع سے دامن

چھڑا لیتے تھے۔

عشال اب کافی حد تک خود کو کمپوز کر چکی تھیں اس لئے اب حازم شاہ سے الگ ہو کر تکیے پر سر رکھے وہ آنکھیں موند گئی تھیں جو کہ ناراضگی کا واضح اظہار تھا۔


حازم شاہ نے مسکرا کر عشال کو دیکھا جسے آج تک حازم شاہ سے ناراض ہونا نہیں آیا تھا۔ عشال کے سونے کا یقین کر کے وہ اٹھے اور اپنے کمرے میں موجود بالکنی کی طرف چلے


گئے۔


چاند کو دیکھتے ہوئے ماضی کی بہت ساری سوچوں نے انہیں اپنے حصار میں لے لیا اور ایک آنسو ٹوٹ کر گالوں سے پھیلا تھا۔

" کیوں مجھے اکیلا کر دیا تم دونوں نے؟"


خود سے سوال کرتے ہوئے اب وہ اپنا ضبط کھو چکے تھے۔ تکلیف آنکھوں سے آنسو بن کر نکل کر رہی تھی۔ دنیا کے سامنے مشہور بزنس مین راتوں کو اٹھ کر روتا تھا۔ یہ بات فقط کی ذات اور راتوں کی تنہائی میں موجود چاند کی روشنی جانتی تھی۔ اٹھارہ سال گزر گئے تھے حازم شاہ کو اس حال میں لیکن آج بھی ان دکھ ویسے ہی تازہ تھا۔


سورج کی کرنوں کو منہ پر پڑتے دیکھ کر وہ کروٹ بدل گیا۔ اور منہ پر کمبل لیتے ہوئے وہ

خود کو چھپا گیا تھا۔


"ہنی۔۔ ہنی۔۔ اٹھ جائو ۔۔ بابا ناشتے پر انتظار کر رہے ہیں۔"


ایک نسوانی آواز پر کمبل ہٹاتے ہوئے وہ اپنے سامنے دیکھنے لگا۔ جہاں ایک چو میں سالہ لڑکی کھڑی مسکراتے ہوئے اس کے کمرے کو سمیٹنے میں مصروف ہو گئی تھی۔

Comments

Popular posts from this blog

Ilham_e_ishaq full in urdu ep:3